سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے lyric

0
358

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو چوروں سے رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے

آنکھیں ملنا جھنجلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کوئی گالی ہے

جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیابیتالی ہے

بادل گرجے بجلی چمکے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
مینہ نے پھسلن کردی ہے اور دھڑ تک کھائی نالی ہے

ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجلا کر سردے پٹکوں چل رے مولی والی ہے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بیکس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

دنیا کو تو کیا جانےیہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے

وہ تو نہائت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

مولی تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے